میرے اندر خوشی دبی ہوئی ہے
A coffin of khushi
میرے اندر خوشی دبی ہوئی ہے
چھپی ہوئی ہے
اس بچے کی طرح جو سوتا نہیں ہے
جاگتا نہیں ہے
مردے کی طرح پیشانی سے پسینہ پونچھتا نہیں ہے
خوف سے آنکھ اٹھا کر دیکھتا نہیں ہے
لحاف کو کفن کی طرح دبوچ کر خاموشی سے پوچھتا ہے
میں اکیلا تو نہیں؟
اندھیرے سے ڈر کر دوبارہ سو جاتا ہے
میرے اندر خوشی دبی ہوئی ہے
Huda Syyed

